او دیس سے آنے والے بتا
کس حال میں ھیں یارانِ وطن؟
کیا اب بھی یونہی پہلے کی طرح
اٹھتا ھے دھواں، جلتے ھیں چمن
کیا اب بھی وہاں لوگوں کے دل
ملا کے دیں سے ڈرتے ہیں
اور خودکش حملوں میں وحشی
حوروں کی خاطر مرتے ہیں
کیا اب بھی ہمارے پیر و جواں
قبروں پہ مرادیں مانگتے ہیں
اور جنوں بھوتوں کے ڈر سے
دل تھر تھر تھر تھر کانپتے ہیں
کیا اب بھی سعودی دولت سے
جاپانی پراڈو آتی ھے
اور اس میں بیٹھے ملا کی
ریشم کی قبا لہراتی ھے
کیا اب بھی عبادت گاہوں میں
نفرت کی فصل ھی پھلتی ھے
اور اس کو کھا کر لوگوں کی
آنکھوں سے آگ نکلتی ھے
کیا اب بھی وطن میں بچوں کو
سب جھوٹ پڑھایا جاتا ھے
جو سچ کا طالب ھو اس کو
اللہ سے ڈرایا جاتا ھے
کیا اب بھی عقل پہ پہرے ھیں
اور انساں گونگے بہرے ھیں
کیا اب بھی سوچنے والوں کی
قسمت میں صرف کٹہرے ھیں
کیا اب بھی جنّوں کے قبضے سے
لوگوں کو چھڑایا جاتا ھے
اور ایسے شعبدہ بازوں کو
ٹی وی پہ دکھایا جاتا ھے
کیا اب بھی وہاں کے شہروں میں
گٹروں کا پانی بہتا ھے
اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر
کچرے کا قبضہ رھتا ھے
کیا اب بھی کاروکاری میں
معصوموں کی جاں جاتی ھے
اور ان کی قبروں پر خلقت
انصاف کے دیپ جلاتی ھے
کیا اب بھی اندھی عقیدت کی
لوگوں پہ حکومت جاری ھے
اور ان کے جینے مرنے پر
ملا کی اجارہ داری ھے
کیا شام پڑے گلیوں میں اسی
آسیب کا ڈیرہ رھتا ھے
اور دل کی سونی بستی میں
ھر وقت اندھیرہ رھتا ھے
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں۔
- - - - - - - - - - - - - - - -
دہقان تو مرکھپ گیا اب کس کو جگاؤں
ملتا ہے کہاں خوشہٰ گندم کہ جلاؤں
شاہین کا ہے گنبدشاہی پہ بسیرا
کنجشک فرومایہ کو اب کس سے لڑاؤں
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
————
ہر داڑھی میں تنکا ہے،ہر ایک آنکھ میں شہتیر
مومن کی نگاہوں سے بدلتی نہیں تقدیر
توحید کی تلوارسے خالی ہیں نیامیں
اب ذوق یقیں سے نہیں کٹتی کوئی زنجیر
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
———-
شاہیں کا جہاں آج گرگس کا جہاں ہے
ملتی ہوئی ملاّ سے مجاہد کی اذاں ہے
مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور
شاہیں میں مگر طاقت پرواز کہاں ہے
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
———-
مرمر کی سلوں سے کوئی بے زار نہیں ہے
رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے
کہنے کو ہر اک شخص مسلمان ہے،لیکن
دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
———-
بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن
مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈرہو
وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
————
پیدا کبھی ہوتی تھی سحر جس کی اذاں سے
اس بندہ مومن کو میں اب لاؤں کہاں سے
وہ سجدہ زمیں جس سے لرز جاتی تھی یارو!
اک بار تھا ہم چھٹ گئے اس بارگراں سے
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
———-
جھگڑے ہیں یہاں صوبوں کے ذاتوں کے نسب کے
اگتے ہیں تہ سایہٰ گل خار غضب کے
یہ دیس ہے سب کا مگر اس کا نہیں کوئی
اس کے تن خستہ پہ تو اب دانت ہیں سب کے
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
————-
محمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے
جمہور سے سلطانی جمہور ڈرے ہے
تھامے ہوئے دامن ہے یہاں پر جو خودی کا
مرمرکے جئے ہے کبھی جی جی کے مرے ہے
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
————-
دیکھو تو ذرا محلوں کے پردوں کو اٹھا کر
شمشیر و سناں رکھی ہیں طاقوں پہ سجا کر
آتے ہیں نظر مسند شاہی پہ رنگیلے
تقدیر امم سو گئی طاوٰس پہ آ کر
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
————-
مکاری و عیاری و غداری و ہیجان
اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان
قاری اسے کہنا تو بڑی بات ہے یارو!
اس نے تو کبھی کھول کے دیکھا نہیں قرآن
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
————
کردار کا گفتار کا اعمال کا مومن
قائل نہیں ایسے کسی جنجال کامومن
سرحد کا ہے مومن کوئی بنگال کا مومن
ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
📕 📗 📘 📙 📓