Monthly Archives: June 2015

کراچی گرمی، ہلاکتیں اور علاج ڈاکٹر اویس فاروقی : سائبریا ،روس اور دیگر یورپی ممالک میں جس قدر شدید برف باری اور درجہ حرات بعض اوقات نقطہ انجماد سے بھی کافی کم رہتا یا چلا جاتا ہے اگر ایسا پاکستان میں ہوتا تو یہاں جس طرح کراچی میں لوگوں کی گرمی کی نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں ہیں اسی طرح شدید سردی سے بھی ہو سکتی ہیں لیکن خدا کا شکر ہے کہ ایسا نہیں ہوتا ورنہ ہمارئے حکمرانوں اور اداروں کی نااہلی، غفلت اور لاپرواہی سے عام شہریوں کا جینا دوبر ہو چکا ہوتا۔ امریکہ میں چندمہنیے پہلے شدید برف باری ہوئی جان کیری اپنے گھر کے آگے سے برف صاف کرانے کی غفلت کے ملزم قرار پائے اور انہیں اس غفلت کا جرمانہ ادا کرنا پڑا حالانکہ وہ اس وقت امریکن صدر کے ساتھ سعودی عرب کے دورے پر تھے۔ قوموں اور ہجوم میں یہی فرق ہوتا ہے ہمارے ہاں ایسا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ کسی حکمران یا سرکاری اہلکار کو اس کی غفلت اور کوتاہی کے نتیجے میں کوئی چھوٹی موٹی سزا بھی دی جاسکے۔ احتساب صرف پیسہ ہڑپ کرنے والوں کا ہی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنی ڈیوٹی کو احسن اور ایماندارنہ طریقے سے سر انجام نہ دینے والوں کا بھی کڑا احتساب ہونا چاہیے تب ہی جا کر یہ ملک ٹھیک ہو گا ورنہ ہزاروں کے حساب سے ضائع ہونے والی انسانی جانیں چلے جانے کے باوجود یہاں کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگے گی۔ پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن دونوں نے عوام سے لاتعلق رہنے کی قسم کھا رکھی ہے جب ان کے ذاتی مفاد پر زد پڑتی ہو تو اکٹھے ہوجاتے ہیں اور شور ڈالنا شروع ہوجاتے ہیں کہ جمہوریت کو خطرہ ہے جس کی کئی مثالیں موجود ہیں لیکن عوام مرتی رہے انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی اگر دیکھا جائے تو حکومت اور اپوزیشن دونوں آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں آئیں یہ کہتا ہے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام شہری مساوی حقوق کے حق دار ہیں ، صحت تعلیم ، امن و امن کی ساتھ ان کی جان و مال کی حفاطت کی ذمہ دار حکومت ہو گی لیکن کیا ایسا ہو رہا ہے جواب ملے گا نہیں۔ تو پھر کیا اس کو جمہوریت کہا جاسکتا ہے ؟۔ کراچی میں گزشتہ چند دنوں سے جو کچھ کراچی کے شہریوں پر بیت رہی ہے اسے دیکھنے کے بعد لگتا نہیں کہ یہ کسی مہذب ملک میں ہورہا ہے جہاں ایک طرف تو لوگ عیش و نشاط کے مزے لے رہے ہیں تو دوسری جانب مرنے والوں کو قبر اور کفن تک نصیب نہیں ہورہے ۔گرمی کی شدت میں اضافہ کیا ہوا کراچی کے شہری دیمک لگی لکڑی کی طرح زمین پر گر گر کر مرنے لگے اس سے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ حکمرانوں نے انہیں صرف سانس لینے اور ووٹ ڈالنے کے قابل ہی رہنے دیا ہے۔ زمینی و آسمانی آفتوں ، سختیوں ،بیماریوں سے مدافت کے لئے جتنی جان اور انرجی ہونی چاہیے تھی کراچی کے شہری اس سے محروم ہیں ، غربت بے، روزگاری، مناسب خوراک کی کمی نے انہیں اس حالت تک پہنچا دیا کہ وہ گرمی کی شدت کو بھی برداشت نہ کر سکے اس پر ظلم عظیم کہ وہاں بجلی بھی میسر نہیں ،بتایا جاتا ہے کہ آٹھ آٹھ گھنٹے دورانیے کی لوڈشیڈنگ نے کراچی کے شہریوں کا برا حال کر کے رکھ دیا اور جب بجلی آتی ہے تو اس کے ولٹیج اتنے کم ہوتے ہیں جس سے ان کی گھریلو الیکٹرونکس کی اشیاء جل جاتی ہیں کوئی گھر ایسا ہو گا جہاں فریج نہیں جلے ہوں گے جبکہ شہر بھر میں برف ڈھونڈے نہیں ملتی۔ شہرِ کراچی میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق گرمی سے سے دوہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں ہزاروں افراد اب بھی سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ 2 کروڑ کے شہر میں مردہ خانے بھر چکے ہیں، جبکہ قبریں کھودنے والے کم پڑ گئے ہیں۔ گو کہ اب بحیرہء عرب سے اٹھنے والی مون سون کی ٹھنڈی ہواوٴں نے گرمی کی شدت کو کم کر دیا ہے، لیکن ماہرِ آب و ہوا قمر الزمان چوہدری کے مطابق یہ شدید گرمی isl and effect heat urbanکی وجہ سے تھی، جس میں درجہ حرارت ہوتا تو 45 ڈگری ہے، لیکن محسوس 50 ڈگری ہوتا ہے، کیونکہ شہر میں پھنس چکی گرم ہوا باہر نہیں نکل پاتی۔ان کے مطابق “شہر ایک بھٹی کی طرح ہے، جو گرمی کو روک لیتا ہے، اور اسے باہر نکلنے نہیں دیتا۔” ان کے مطابق یہی درجہ حرارت، بلکہ اس سے بھی زیادہ سندھ کے دوسرے شہروں سے بھی رپورٹ ہوا ہے، لیکن اس نے لوگوں کی جانیں اس طرح نہیں لیں جس طرح کراچی میں، کیونکہ وہاں پر گرم ہوا کے پھیلنے اور باہر نکلنے کے لیے جگہ موجود ہے۔ یوں تو اس سے پہلے بھی کراچی میں گرمی کی لہر دیکھی گئی ہے، لیکن یہ زیادہ سے زیادہ دو دن برقرار رہتی ہیں، جبکہ اس دفعہ یہ پانچ سے چھ دن برقرار رہی۔ ماحولیات اور شہری منصوبہ بندی کے ماہر ین کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ عمارات کے ڈیزائنز اور ان میں استعمال ہونے والے مٹیریل پر دوبارہ غور کیا جائے۔”اونچی عمارتوں نے ہوا کے قدرتی راستے روک دیے ہیں، جبکہ ٹریفک کی گرمی نے بھی مسئلے کی شدت میں اضافہ کیا ہے ۔درخت لگانے سے اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ وہ درختوں کو شہر کے پھیپھڑے قرار دیا جاتا ہے اور درخت قدرتی ایئر کنڈیشنر ہوتے ہیں، جب پتوں سے آبی بخارات خارج ہوتے ہیں، تو ان سے ماحول ٹھنڈا ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی کو نیم کے درختوں کی ضرورت ہے، جو اس سخت آب و ہوا کو جھیل سکیں جس نے 1980 کی دہائی کے بعد سے کراچی کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ یہ درخت لگانے کا بہترین وقت مون سون کا شجرکاری موسم ہوگا جو اگلے ماہ شروع ہورہا ہے، اور 15 جولائی سے 15 ستمبر تک جاری رہے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے ساتھ صحت عامہ کی صورت حال کو بہتر ، شہریوں کو مناسب خوراک اور غذا فراہم کرنے کا بندوبست کرنا چاہے جبکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پا کر بھی گرمی کی شدت میں کمی لائی جاسکتی دو ہزار سے زائد انسانی جانوں کا ضیاع کوئی چھوٹی بات نہیں ہے حکومت کو عقل کے ناخن لینے چاہیے اور عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دینی چاہے۔ ایک انسان کی جان صرف ایک کی نہیں ہوتی وہ کسی کنبے کا سربراہ ہوتا ہے اس کی ہلاکت سے اس غیر انسانی معاشرے میں کنبہ ہی مر جاتا ہے۔ © جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com
کرکٹ فوبیا، یا کھیل ڈاکٹر اویس فاروقی : زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد سے جہاں ہمیں کھیل کے میدان میں تازہ ہوا ملنے اک احساس ہوا وہیں دیگر ممالک کی کرکٹ ٹیموں کے پاکستان کا دورہ کرنے کی راہ بھی ہموار ہوئی زمبابوئے کی ٹیم سخت زمینی اور فضائی سیکیورٹی میں پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی اور فتح کا عزم لیے پاکستان آئی تھی ار اس نے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ بھی کیا ۔مہمان ٹیم کے آنے سے عالمی کرکٹ کے ترسے پاکستانی شائقین کی آنکھوں میں ایک بار پھرامید کے دیے جگمگانے لگے ہیں کہ کرکٹ کے میدان پھر سے آباد ہوں گے جو دہشت گردوں کی مذموم کاروائیوں کی وجہ سے ویران ہو گئے تھے۔پاکستان پر عالمی کرکٹ کے دروازے 2001 میں 9/11 کے بعد خطے کی خراب صورتحال اور کرکٹ میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے بعد سے ہی بند ہونا شروع ہو گئے تھے لیکن اس پر کاری ضرب 2002 میں اس وقت لگی جب نیوزی لینڈ کی ٹیم دورے پر پاکستانی پہنچی۔لاہور ٹیسٹ میں انضمام الحق کی ٹرپل سنچری(جو 21ویں صدی میں کسی بلے باز کی پہلی ٹرپل سنچری بھی تھی) اور پاکستان کی بھاری مارجن سے فتح کے بعد دونوں ٹیمیں کراچی پہنچیں لیکن میچ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل نیوزی لینڈ ٹیم کے ہوٹل کے باہر دہشت گردوں کی جانب سے خوفناک دھماکے میں فرانسیسی انجینئرز سمیت کم از کم 14 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔اس دھماکے کے بعد کیوی ٹیم نے دورہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وطن کی راہ لی۔ لیکن 2009 میں سری لنکن ٹیم کا دورہ پاکستان ملک میں عالمی کرکٹ کے دروازے بند کرنے کا موجب بن گیا اور اس بار بھی آغاز ایک ٹرپل سنچری سے ہی ہوا۔پاکستانی ٹیم کے کپتان یونس خان نے کراچی ٹیسٹ میں ٹرپل سنچری اسکور کی اور بیٹنگ کے لیے سازگار پچ پر دونوں ٹیموں کے بلے بازوں نے بھرپور مشق کی جس کی وجہ سے میچ ڈرا پر منتج ہوا۔اگلے ٹیسٹ میچ کے لیے سری لنکن ٹیم لاہور پہنچی لیکن کسے معلوم تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ایک بار پھر میچ کے آغاز سے چند گھنٹوں پہلے سانحہ رونما ہوا جو ملک پر کرکٹ کے دروازے بند کر گیا، المیہ یہ کہ جس ٹیم کو منت سماجت کر کے بلایا گیا اس کے سکیورٹی روٹ پر کوئی پولیس کی گاڑی تھی اور نہ اہلکار۔پھر ورلڈ کپ کی میزبانی ہاتھ سے گئی اور وہ جنہیں کرکٹ کھیلنا سکھائی، وہ بھی آنکھیں دکھانے لگے۔ بورڈ میں چیئرمین کی کرسی پر میوزیکل چیئر کا کھیل کھیلا جانے لگا اور ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ایک خواب بن گئی۔اس دوران پاکستانی ٹیم اپنی تمام ہوم سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلنے پر مجبور ہوئی اور بورڈ کو ٹی وی حقوق اور اضافی اخراجات کی مد میں کئیملین ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔بالاآخر شہریار خان کی بورڈ میں آمد ہوئی اور انہوں نے اپنی اعلیٰ سفارتی صلاحیتوں کو استعمال کر کے ناصرف ہندوستان سے بہتر کرکٹ تعلقات استور کیے بلکہ زمبابوے ٹیم کو بھی دورہ پاکستان پر رضامند کر لیا۔ایک بار پھر غیر ملکی ٹیم کی آمد سے چند دن قبل دہشت گردی کی کارروائی سے دورے خطرے میں پڑ گیا لیکن بورڈ نے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔ گو کہ زمبابوئے کی ٹیم کا دورہ پاکستان کو بہت مہنگا پڑالیکن درحقیقت پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کے لیے یہ بھی مہنگا سودا نہیں کیونکہ اگر چند ملین ڈالرز سے ملک میں کرکٹ کی رونقیں لوٹ سکتی ہیں تو یہ کسی طور پر مہنگا سودا نہیں گو کہ دشمنوں نے قدافی اسٹیڈم کے باہر دھماکہ کر کے سازش کی تھی کہ زمبابوئے کی ٹیم اپنا دورہ نامکمل کر کے واپس لوٹ جائے مگر حکومت اور انتظامیہ کی بہتر حکمت عملی کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔زمبابوے کی ٹیم کی آمد کے ساتھ ہی ملک میں عالمی کرکٹ کے در کھل چکے ہیں لیکن یہ دروازے ہمیشہ کیلئے اسی وقت کھل سکتے ہیں اگر ہم ملک میں سیکیورٹی مسائل پر قابو پائیں۔ یہ تو خدا کا شکر ہوا کہ زمبابوئے کی ٹیم خیر و عافیت سے واپس روانہ ہوئی لیکن یہاں چند ایک سوال جن کے جواب ہمیں ڈھونڈنے چاہیں پر بات کرنا ضروری خیال کیا جاتا ہے ،پہلے نمبر تو ہم میڈیا کی بات کریں گے جس کی تربیت ناگزیر ہو چکی ہے۔ جب ملکی حالات ایسے ہوں کے خطرات کے سائے منڈلا رہے ہوں تو میڈیا کو ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرنی چاہیے۔ جبکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ میڈیا ایک ”بریکنگ نیوز“ کے چکر میں سیکورٹی کے پیمانوں کا خیال نہیں رکھتا جیسا کہ زمبابوئے کی ٹیم کی آمد و رفت کہاں ٹھرئے، کیا کھایا ،پہنا کہاں سے کب گزریں گے و غیرہ تمام جزیات سمیت رپورٹ کرتا رہا جسے کم سے کم الفاظ میں نامناسب رپورٹنگ کہا جاسکتا ہے۔ دوسری بات سییکورٹی کے نام پر حکومتی اداروں نے جو ہا ہا کار مچائی کرفیو کا سمان پیدا کیے رکھا یہ طریقہ کار بھی سیکورٹی کے اصولوں کے منافی قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ حکومت کے انتظامی امور اس طرح کے ہونے چاہیے جس میں سیکورٹی کے نام پر رسک پیدا نہیں کیا جانا چاہے بلکہ اگر سیکورٹی کے معاملات کو نارمل رکھا جاتا تو شائد اتنا پینک کبھی نہ پھیلتا جتنا اس بار پھیلایا گیا لوگوں کی آمد و رفت کے راستے گھنٹوں بند کئے گئے۔ جبکہ کرکٹ کے شائقین سخت سیکورٹی کے مراحل سے توہین آمیز سلوک سے گزرنے کے ڈر سے کھیل دیکھنے سے بھی محروم رہے انہوں نے اپنا یہ شوق ٹی وی دیکھ کر پورا کیا۔ حکومت کو سیکورٹی کے نام پر افرا تفری پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ انتظامیہ کی تربیت اعلی اور جدید طریقے سے کی جائے اگر ایسا ہو جائے تو چند افراد بھی سیکورٹی کے امور احسن طریقے سے سر انجام دے سکتے ہیں ایسا ہونے سے حکومت کو ہجوم کی صورت پولیس تعینات کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے ”ہجوم “بذات خود ایک مسلہ ہوتا ہے۔ تیسری بات کبھی کبھار کھیل کے نام پر پینک پیدا کرنے کی بجائے کھیلوں کے فروغ کے لئے کام کرتے ہوئے ہر روز ہر شہر میں کھیلوں کے میدانوں کو ہر طرح کی کھیلوں سے سجایا جائے صرف کرکٹ کی سر پرستی کر کے ہم نواجون قومی سرمائے کی حق تلفی کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں جبکہ اگر کھیلوں کے میدان آباد ہوں تو دہشت گردی جیسے عفریت کو اپنی شکست خود ہی نظر آنا شروع ہو جائے گی۔ ہمارا نوجوان جو ملک کی آبادی کا ساٹھ فیصد بتایا جاتا ہے وہ اس وقت ڈائریکشن لیس ہے کبھی وہ ون ویلنگ کے زریعے اپنے کھیل کا شوق پورا کرتا ہے تو کبھی کسی اور نامناسب طریقے سے یہی اگر حکومت کھیلوں کے میدانوں کو آباد کرے جو یا تو بنجر ہو چکے ہیں یا ان پر قبضہ ہو چکا ہے تو ہم ایک اچھی تحمل اور روادری اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے والی قوم بن کر دہشت گردی کو شکست دے سکتے ہیں۔ © جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com
فوکس پاکستان کی جانب سے گلیکسی پبلک سکول کے دو سو طلباو طالبات میں مفت سٹیشنری کی تقسیم فوکس پاکستان ایک غیر سرکاری ایسی تنظیم ہے جو اپنی مدد آپ کے تحت تعلیم ، ہیلتھ اور سماجی خرابیوں کی کی اصلاح کے لئے کام کرتی ہے، خصوصاً تعلمی کے میدان میں اس کی کوششیں قابل قدر ہیں، ایسے تعلمی ادارئے جو اپنی مدد آپ کے تحت چل رہے ہوں یا پسمنادی علاقوں میں قائم ایسے تعلمی ادارئے جہاں پڑھنے والے بچے وسائل نہ رکھتے ہوں میں سٹیشنری اور کاپیاں مفت تقسیم کرتی ہے سج سے بچوں کے والدین کا مالی بوجھ کم کرنا ہوتا ہے۔اسی طرع کا ایک تعلمی ادارہ گلیکسی پبلک سکول بیدیاں کے علاقے ہیر میں قائم ہے جسے میڈم راحت اپنی مدد آپ کے تحت1998 چلا رہی ہیں۔ جہاں نرسری سے لیکر میٹرک تک کے دو سو کے قریب طلبا و طلبات زیر تعلیم ہیں جنہیں بہتر اور باعزت انداز میں تعلیم مہیا کی جاتی ہے یہاں والدین ، گائے بھینسں خریدنا فخر سمجھتے ہیں جبکہ تعلیم ان کی ترجیح نہیں ہے ایسے علاقے میں بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔۔ فوکس پاکستان کے صدر ڈاکٹر اویس فاروقی بھی ایسے ہی تعلیمی اداروں کے بچوں کو فوکس پاکستان کے زریعے کاپیاں اور شٹیشنری مفت فراہم کرنے جیسا کار ہائے نمایاں سر انجام دیتے رہتے ہیں انہوں نے گلیکسی پبلک سکول کے دو سو کے قریب بچوں اور بچیوں کو مفت شٹیشنری اور کاپیاں دیں ۔