Monthly Archives: September 2017

ڈاکٹر اویس فاروقی فوکس پاکستان ترقی کو محور صرف لاہور ہی کیوں؟ حکومت مخالفین اور ملکی معاملات پر نظر رکھنے والوں کا یہ کہنا کسی حد تک درست ہے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی نظر کرم صرف لاہور کے ”پوش علاقوں“ پر ہی ہے جبکہ پنجاب کے دیگر اضلاع ترقی کے بحر قلزم سے محروم ہیں جس کے نتیجے میں دیہی علاقوں اور دیگر اضلاع سے لوگوں کا لاہور جیسے بڑئے شہر میں آکر آباد ہونے سے لاہور شہر کے لئے کئی طرح کے مسائل کا باعث بن رہا ہے جس پر پنجاب حکومت کے کرتادھرتاوں کی نہ ہی نظر ہے اور نہ وہ اسے کوئی اہمیت دینے کے لئے تیار ہیں ایک خباری رپورٹ میں لاہور کی ترقی اور پنجاب کے دیگر علاقوں کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ لاہور ایک طرف دوسری طرف پورا پنجاب ، تعلیم ہو صحت یا پھر ترقی ، صوبے کے تمام چھوٹے بڑے شہر مل کر بھی صوبائی دارالحکومت کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ دور دراز علاقوں کے لوگ بہتر مستقبل کی خاطر لاہور کا رخ کر رہے ہیں اسی لئے لاہور کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ لاہور شہرِ بے مثال ترقی میں کمال پر پہنچ گیا ہے ، بڑے بڑے پلان بننے لگے ، ہسپتال ، تعلیمی ادارے ، ٹرانسپورٹ اور کھیل کے میدان ڈویلپمنٹ لاہور بدل گیا۔ لیکن باقی پنجاب میں تبدیلی صرف خواب بن کر رہ گئی۔ محتاط اندازے کے مطابق پنجاب کی آبادی گیارہ کروڑ سے کچھ اوپر ہے اور لاہور کی ایک کروڑ چالیس لاکھ کے قریب جس میں سے دس کروڑ افراد نظرانداز ہو رہے ہیں۔ ایک کروڑ چالیس لاکھ کیلئے سب سہولتیں اور بجٹ جبکہ باقی صوبے کیلئے آہو کے اور آہیں ہیں۔جنوبی ہی نہیں شمالی پنجاب بھی احساس محرومی کا شکار ہوگیا۔ صحت کی سہولتیں ہوں ، تعلیم کی فراہمی ، ٹرانسپورٹ کی دستیابی یا پھر صنعتوں کی روانی پنجاب کے سارے شہر مل کر بھی لاہور کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ تقابلی جائزہ لیں تو ایسی حقیقت نظر آتی ہے کہ آنکھ کھل جاتی ہے۔ صحت عوام کا بنیادی حق متعلقہ محکمے بھی موجود ، ہسپتال بھی قائم لیکن سہولتیں صرف لاہور میں ہیں ، تبھی تو دور دراز علاقوں سے لوگ یہاں آتے ہیں۔ رش بڑھتا ہے تو مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں ، ایک اندازے کے مطابق لاہور کے ہسپتالوں میں 76 فیصد مریض قریبی اضلاع سے لائے جاتے ہیں۔ پنجاب کے ایک سو باون میں سے اٹھارہ بڑے اور جدید سرکاری ہسپتال اسی شہر میں ہیں۔ تعلیمی میدان میں بھی دیگر پینتیس اضلاع میں سہولتوں کا فقدان ہے۔ صوبے میں کالجوں کی تعداد سات سو دس ہے جس میں سے چون صرف لاہور میں ہیں۔ پنجاب کی ستائیس جامعات میں سے نو اسی شہر میں چل رہی ہیں۔ سب سے بڑی انجینئرنگ یونیورسٹی ، تینوں میڈیکل یونیورسٹیز ، بارہ میں سے تین میڈیکل کالج بھی صوبائی دارالحکومت ہی میں ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں اساتذہ بھی پورے معیار بھی موجود ہیں تبھی تو دوسرے شہروں سے طلبہ لاہور کا رخ کرتے ہیں ، اس طرح اس شعبے میں بھی تعداد کے ساتھ ساتھ مسائل بھی بڑھتے ہیں۔ تمام میگا پراجیکٹس بھی لاہور میں چل رہے ہیں ، میٹرو بس چل رہی ہے ، اورنج ٹرین بن رہی ہے ، فلائی اوورز کی تعمیر ہو یا انہیں کارپٹڈ کرنے کی مہم ، دوسرے اضلاع سے فنڈ کاٹ کر کروڑوں اربوں یہاں خرچ ہوتے ہیں۔ جہاں منصوبے چل رہے ہوں روزگار بھی وہیں ملتا ہے۔ لاہور میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے ، یہاں کاروباری منڈیاں بھی ہیں اور صنعتوں کا جال بھی ، تجارتی مراکز بھی ہیں اور بڑے بڑے شاپنگ مال بھی ، اسی لئے روزی روٹی کی تلاش بھی یہیں ختم ہوتی ہے۔ معاشی مسائل کے جکڑے لوگ لاہور آتے ہیں اور اپنا روزگار چلاتے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آٹھ برس میں لاہور کی آبادی پینتالیس فیصد بڑھی۔ مسافر زیادہ ہوئے تو گاڑیاں بھی بڑھ گئیں۔ اس وقت روزانہ سات لاکھ سے زائد گاڑیاں لاہور آتی اور یہاں سے جاتی ہیں۔ شہر میں پچاس ہزار سے زائد گاڑیاں بطور پبلک ٹرانسپورٹ بھی چل رہی ہیں۔ صوبے میں مجموعی طور پر ایک کروڑ چونسٹھ لاکھ پینتیس ہزار سے زائد گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں جن میں سے ایک کروڑ دو ہزار تین سو پینتیس کی رجسٹریشن لاہور میں ہے۔سال دو ہزار سولہ میں صوبے بھر میں رجسٹریشن کی یہ تعداد ایک لاکھ بیس ہزار رہی جن میں سے چھیانوے ہزار دو سو پچیس کے کاغذات لاہور سے بنے۔ صوبائی سول سیکرٹریٹ لاہور میں قائم ، چیف سیکرٹری سمیت اعلیٰ ترین بیورو کریسی یہیں بیٹھتی ہے۔ مسائل رلاتے ہیں تو مجبور لوگ حل کے لئے ادھر ہی آتے ہیں۔ وزرا بھی اپنے حلقوں کے بجائے یہیں پائے جاتے ہیں ترقی اور طرز زندگی کا یہ فرق ایسے ہی نہیں بلکہ تمام اضلاع کے بجٹ سے بھی زیادہ فنڈز کا ثمر ہے کیونکہ حکومت کی صرف لاہور پر ہی نظر ہے۔ پورے لاہور کا بجٹ ایک طرف جبکہ باقی 36 اضلاع کا بجٹ ایک طرف ہے۔ جسے ہر برس بڑھتا جاتا ہے، صرف لاہور پر زور باقی پورا صوبہ نظر انداز کرنے کی پالیسی جہاں عوام میں احساس کمتری بڑھا رہی ہے وہیں اپوزیشن بھی عوام کو حکومے کے خلاف کسانے پر آمادہ کر سکتی ہے ۔ ترقی سب کا حق ہے لیکن اگر حکومت صرف صوبائی دارالحکومت ہی کو ترجیح دیتی رہی تو باقی علاقوں کی محرومیاں بڑھتی رہیں گی اور دوریاں بھی پروان چڑھتی رہیں گی۔ وزیر اعلیٰ کا لاہور کو پیرس بنانے کا عزم پنجاب کے دیگر اضلاع کے لیے پسماندگی اور محرومی کی علامت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے دور سے لے کر اب تک پنجاب حکومت نصف کے قریب ترقیاتی بجٹ صرف لاہور کی نذر کرتی رہی ہے ، چنانچہ اس عرصے میں صوبے کے دیگر35 اضلاع میں کوئی قابل ذکر ترقیاتی منصوبہ سرے نہیں چڑھا۔پچھلے تین بجٹس کے اعدادوشمار کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو پنجاب کے طول و عرض میں سڑکوں کی بد حالی، نکاسی آب کے نظام کی تباہی اور سرکاری سکولوں ، ہسپتالوں اور لاہور کی نواحی اور پسماندہ علاقوں کی بد حالی صورتحال کی وجہ بھی یہ میگا پراجیکٹ ہی ہیں۔ ترقیاتی بجٹ کا زیادہ تر حصہ بھی وزیر اعلیٰ نے اپنے ہی شہر پر خرچ کرنا مناسب خیال کیا۔جس میں نصف کے قریب رقم لاہور میں میٹرو بس منصوبے، کلمہ چوک انڈر پاس اور ماڈل ٹاو ¿ن انڈر پاس کی تعمیر پر خرچ ہو گئے جبکہ لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے لیے ایک سو سی این جی بسیں خرید لی گئیں۔ مگرپنجاب کے دور دراز علاقوں کے محروم دیہاتوں میں رہنے والے نہیں جانتے کہ پچھلے کئی سال سے ان کے علاقوں میں پسماندگی کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے حصے کی رقم ان پر خرچ کرنے کے بجائے وزیر اعلیان سکیموں پر خرچ کرتے آ رہے ہیں جن کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ بتائے جاتے ہیں۔ ابھی تک بیشتر دیہات پینے کے صاف پانی، پکی سڑک اور پختہ نالیوں اور لیٹرینوں سے محروم ہیں۔لاہور میں بننے والے فلائی اور اور دیگر مسائل پر اگلے کالم میں اظہار خیال کیا جائے گا۔
اغراض و مقاصد فوکس پاکستان سماجی خدمات اور انسانیت کی بھلائی پر یقین رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جس کا قیام 2002 ءمیں عمل لایا گیا۔ فوکس پاکستان اپنے قیام سے اب تک بہت سے سماجی مسائل زیر غور لاچکی ہے جو سیر حاصل بحث و تمحیص کے بعد شائع ہوچکے ہیں۔ گروپ کو متحرک رکھنے میں پیش پیش پاکستان کے شاندار مستقبل پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں جو وطن عزیز کو درپیش اہم مسائل کی نشاندہی اور ان کا عملی حل پیش کرنے میں دامے‘ درمے‘ قدمے‘ سخنے ہمیشہ کوشاں رہے۔ ملک کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات پر خیالات اور تبصروں کا تبادلہ بھی گروپ کے لئے ایک اعزازی کاوش تصور کیا جاتا ہے۔ ہمارا بنیادی مقصد گروپ کے ارکان کو ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں وہ سماجی تحفظ‘ ادارہ جاتی ساکھ‘ کرپشن اور گورننس جیسے اہم قومی مسائل کے حل کے لئے کوئی کردار ادا کرسکیں اور پاک وطن کے اندھیرے دور کرنے کے لئے اپنے حصے کا کوئی چراغ جلاسکیں تاکہ پاکستان قوموں کی برادری میں ایک مینارہ نور کے طور پر نظر آئے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ گروپ کو آپ کی ضرورت ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ” ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ!“ ڈاکٹر اویس فاروقی ،چیئرمین فوکس پاکستان Atta
http://e.dailydinnews.com/home?c=&sd=2017-09-10&pid=17391&epid=2003&t=%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%8C%20%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%81#page
http://e.dailydinnews.com/home?c=&sd=2017-09-10&pid=17391&epid=2003&t=%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%8C%20%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%81#page
فوکس پاکستان گروپ اغراض و مقاصد فوکس پاکستان سماجی خدمات اور انسانیت کی بھلائی پر یقین رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جس کا قیام 2002 ءمیں عمل لایا گیا یہ اپنی مدد آپ کے تحت چلنے والی ایک رجسٹرڈ تنظیم ہے۔ فوکس پاکستان اپنے قیام سے اب تک بہت سے سماجی مسائل زیر غور لاچکی ہے جو سیر حاصل بحث و تمحیص کے بعد شائع ہوچکے ہیں۔ گروپ کو متحرک رکھنے میں پیش پیش پاکستان کے شاندار مستقبل پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں جو وطن عزیز کو درپیش اہم مسائل کی نشاندہی اور ان کا عملی حل پیش کرنے میں دامے‘ درمے‘ قدمے‘ سخنے ہمیشہ کوشاں رہے۔ ملک کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات پر خیالات اور تبصروں کا تبادلہ بھی گروپ کے لئے ایک اعزازی کاوش تصور کیا جاتا ہے۔ ہمارا بنیادی مقصد گروپ کے ارکان کو ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں وہ سماجی تحفظ‘ ادارہ جاتی ساکھ‘ کرپشن اور گورننس جیسے اہم قومی مسائل کے حل کے لئے کوئی کردار ادا کرسکیں اور پاک وطن کے اندھیرے دور کرنے کے لئے اپنے حصے کا کوئی چراغ جلاسکیں تاکہ پاکستان قوموں کی برادری میں ایک مینارہ نور کے طور پر نظر آئے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ گروپ کو آپ کی ضرورت ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ” ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ!“ اگر آپ فوکس پاکستان گروپ کی رکنیت کے لئے کوئی نام تجویز کرنا چاہیں تو خواہش مند کا مکمل نام‘ ای میل‘ واٹس ایپ گروپ ہمیں ارسال کیجیے شکریہ ڈاکٹر اویس فاروقی چیئرمین فوکس پاکستان ……………..

[caption id="attachment_1129" align="alignnone" width="291"] فوکس پاکستان گروپاغراض و مقاصدفوکس پاکستان سماجی خدمات اور انسانیت کی بھلائی پر یقین رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جس کا قیام 2002 ءمیں عمل لایا گیا یہ اپنی مدد آپ کے تحت چلنے والی ایک رجسٹرڈ تنظیم ہے۔ فوکس پاکستان

Read more
ڈاکٹر اویس فاروقی فوکس پاکستان دہشت گردی سے زیادہ ٹریفک حادثات میں لوگ مرتے ہیں ہم شائد ابھی تک ٹریفک کی روانی کے حوالے سے کوئی جامع پالیسی یا طریقہ کار وضع نہیں کر سکے جس کا اندزاہ ہمیں روز سڑکوں پر بے ہنگ ٹریفک اور حادثات کی تعداد میں اضافے سے ہوتا ہے یہاں ٹریفک وارڈن کی وہ تربیت ہی نہیںجس سے وہ ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے میں کام لائیں۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ30 310 افراد ٹریفک حادثات کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ پچھلے کچھ سالوں کی رپورٹ سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ تقریباً 15افراد روزانہ کسی حادثے کا شکار ہوتے ہیں۔حادثات کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سالانہ رپورٹ 2015 ء کے مطابق کم یا درمیانی آمدنی والے ممالک کی گاڑیوں کی تعداد اگرچہ دنیا میں گاڑیوں کی مجموعی تعداد کا نصف ہے تاہم یہاں ہونے والے حادثات دنیا میں سالانہ ٹریفک حادثات کا نوے فیصد ہیں۔ملک میں سرکاری سطح پر ٹریفک حادثات میں ہلاکتوں کے اندراج کا کوئی ٹھوس انتظام نہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات ٹریفک حادثات کے اعدادو شمار بھی جمع کرتا ہے اس کے لیے پولیس کے اعدادوشمار پر انحصار کیا جاتا ہے اور پولیس کے نظام کو دیکھیں اور سمجھیں تو ان اعدادو شمار کی صحت پر یقیناً اعتراض پیدا ہوتا ہے۔ تاہم ان اعدادوشمار ہی کو پیش نظر رکھیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں روزانہ کم و بیش پندرہ جانیں ٹریفک حادثات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ٹریفک حادثات کے معاملے میں شماریات کے قومی ادارے کی کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ اس ادارے کے پاس ملک میں ٹریفک حادثات کا جو تازہ ترین مواد دستیاب ہے وہ تین سال پرانا ہے۔ ادارہ شماریات کے تین سال پرانے ڈیٹا کے مطابق 2004 ء سے 2013 ء کے دوران پچاس ہزار انسانی جانیں ٹریفک حادثات کی نذر ہو گئیں۔اس میں سے 29 ہزار کے قریب پنجاب میں، ساڑھے نو ہزار کے قریب سندھ میں، قریب اتنے ہی خیبر پختونخوا میں اور دو ہزار کے قریب افراد بلوچستان میں ٹریفک حادثوں میں مارے گئے۔گزشتہ سال کے دوران پاکستان میں کل 8 ہزار 885 ٹریفک حادثات رپورٹ کیے گئے، ان ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 4 ہزار 672 افراد موت کے منہ میں چلے گئے اور 9 ہزار 864 لوگ زخمی ہوئے۔عالمی ادارہ صحت کی روڈ سیفٹی کے بارے میں گلوبل اسٹیٹس رپورٹ کے مطابق موجودہ حالات و اقعات یہ عندیہ دیتے ہیں کہ ٹریفک قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے موجودہ رجحانات 2030ئک ناگہانی اموات کی پانچویں بڑی وجہ بن جائیں گے۔ دیکھا جائے تو دہشت گردی کے واقعات میں اتنی ہلاکتیں نہیں ہوتیں جتنی ٹریفک حادثات کے نتیجے میں ہوتی ہیں لیکن سارا زو اور وسائل دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام پر لگائے جارہے ہیں جبکہ اگر اس سے آدھا زور اور وسائل ٹریفک کے معاملات کو درست کرنے پر لگائے جائیں تو ملک میں ٹریفک کا نظام درست اور حادثات میں کمی واقع ہو سکتی ہے لیکن بات وہی ہے کہ یہ ہماری ترجیح نہیں ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی ،صنعتی ترقی کی بدولت لوگوں کا ہجوم‘ مضافات اور دیہات سے قصبوں اور شہروں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ لوگوں کو روزانہ اپنے کاروبار اور ملازمت کی جگہوں پر جانے کےلئے سفر اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے صبح و شام بالخصوص اور تمام دن بالعموم سڑکوں پر عوام اور گاڑیوں کا سمندر امڈ آتا ہے، حکومت‘ سڑکیں اور شاہراہیں چوڑی اور کشادہ کرنے پر پوری توجہ دے رہی ہے مگر سڑکیں‘ آبادی اور ٹریفک میں کئی گنا اضافہ کے حساب سے چوڑی کرنا ناممکن ہے۔ گزرے دور میں ٹریفک کو کنٹرول کرنے کا فریضہ ٹریفک پولیس کے سپرد تھا مگر گزشتہ حکومت نے ٹریفک وارڈن کے نام سے نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد ٹریفک کو کنٹرول کرنے کےلئے بھرتی کی اور ان کا معقول مشاہرہ مقرر کیا مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ ٹریفک کی بے ترتیبی اور اس کا بے ہنگم پن اپنی جگہ موجود ہے۔ٹریفک وارڈنز کے فرائض میں صرف چالان کرنا ہی رہ گیا ہے جبکہ ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے ان کے پاس وقت نہیں ہے۔ ٹریفک اشارہ اگر کام نہ کر رہا ہو تو ٹریفک وارڈنز ٹریفک کو ہاتھ کے اشاروں سے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اکثر چوکوں اور چوراہوں پہ ٹریفک واڈنز دو یا تین کی ٹولیوں میں ٹریفک سے بے تعلق گپوں میں مشغول نظر آتے ہیں اور جب بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اشارہ کام نہیں کرتا تو ٹریفک جام ہو جاتی ہے۔یہاں نہ ہی ٹریفک قوانین کی پابندی کی جاتی ہے اور نہ ہی گاڑیوں کی فٹنس پر توجہ دی جاتی ہے جبکہ کم سن بچے گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چلا رہے ہوتے ہیں اور ان کے والدین اور بزرگ ان کے ہمراہ بیٹھے ہوتے ہیں۔ رکشہ اور موٹر سائیکل رکشے ہر طرح کے اصول ضابطے اور قانون کی پرواہ کئے بنا خود کش بمبار کی طرح سڑکوں پر دوڑ رہے ہوتے ہیں ان کی اس لاقانونیت کا نوٹس نہیں لیا جاتا اور نہ ہی سواریاں کوئی تعرض کرتی دکھاتی دیتی ہیں۔ سست رفتار گدھا گاڑیوں‘ گڈوں‘ تانگوں یا پیٹر انجن سے وجود میں آنے والی گاڑیوں کی بھرمار‘ ٹریفک میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہیں جن پر بھی کسی قسم کی روک ٹوک نہیں ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ٹرانسپورٹ کا نظام جدید خطوط پر استوار ہے، اگر کوئی فرد کسی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر رہا ہو تو اسے پہلے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی منزل تک کب پہنچے گا، اس کے برعکس پاکستان میں آپ پبلک ٹرانسپورٹ میں اندرون شہر کسی لوکل روٹ پر بھی سفر کر رہے ہوں تو ڈرائیور کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں یا پھر ٹریفک نظام کے۔ مسافروں کا مقررہ وقت تک منزل پر پہنچنا تو کجا، گھنٹوں ذلیل و خوار ہونا پڑتا ہے جس کی بنیادی وجہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کا نہ ہونا ہے۔ٹریفک قوانین کا احترام مہذب قوموں کا شعار ہے، مہذب معاشروں میں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے لیے نہ صرف سخت قوانین موجود ہوتے ہیں بلکہ عوامی شعور کی بیداری کے لیے مختلف ادارے بھی قائم کیے جاتے ہیں، دیگر شعبوں کی طرح پاکستان میں ٹریفک کے مسائل بھی اسی طرح حل طلب ہیں جس طرح دوسرے بڑے اور سنگین مسائل۔اوور لوڈنگ، سڑکوں کی خستہ حالی، ٹریفک قوانین سے عدم واقفیت، تیز رفتاری، ون وے کی خلاف ورزی، غلط اوور ٹیکنگ، اشارہ توڑنا، غیر تربیت یافتہ ڈرائیور، ون وہیلنگ، تیز لائٹس، ہیڈ لائٹس کا نہ ہونا، پریشر ہارن، بغیر ہیلمٹ یا بیلٹ کے سفر، ڈرائیونگ کے دوران سیل فون اور / یا نشہ آور اشیا کا استعمال، غلط پارکنگ وغیرہ جیسی ٹریفک کی خلاف ورزیاں اور اس کے علاوہ بریکوں کا فیل ہو جانا اور خراب / مدت پوری کر چکے ٹائروں کا استعمال معمول بن چکے ہیں جو ان حادثوں کی اہم وجوہات ہیں۔ٹریفک قوانین پر عمل درآمد میں پولیس کی ناکامی کا خمیازہ ملک اور قوم کو جرائم کے فروغ کی صورت میں بھی بھگتنا پڑتا ہے، ٹریفک قوانین پر اگر سختی سے عمل کرایا جائے تو بہت سے بڑے چھوٹے جرائم کی شرح میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ حکومت کو ٹریفک کو کنٹرول کرنے کےلئے عملہ کو بہتر ٹریننگ اور جدید طریقہ کار اپنا کر ان کی صلاحیتوں کا بہتر استعمال کرنا چاہئے۔ ہمارے تعلیمی نظام میں ٹریفک سے متعلقہ تعلیم بالکل نہیں دی جاتی۔ترقی یافتہ ممالک میں افراد کومعاشرے کاکارآمدشہری بنانے کے لئے ہرضروری تعلیم اورتربیت دی جاتی ہے مگرہمارے ہاں اس قسم کی تعلیم کاکوئی رواج نہیں ہے۔سکول سے کالج اورکالج سے یونیورسٹی تک صرف اس بات پرزوردیاجاتاہے کہ کیسے زیادہ نمبرزلینے ہیں،معاشرے کا مفیدشہری کیسے بننا ہے اس پرکوئی توجہ نہیں دیتا۔حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ سکول،کالج اوریونیورسٹی ہردرجے پرباقاعدہ کورس ہوں کہ سٹرک پرکیسے چلنا ہے؟ٹریفک کے قوانین کیاہیں؟مختلف اشارے کیا بتاتے ہیں؟اورباقاعدہ طورپر یہ چیزیں نصاب کاحصہ ہوں۔